اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ اسلامی جمہوریہ ایران کے حج و زیارت سے متعلق محکمے کے سربراہ اور امور حج میں رہبر انقلاب اسلامی کے نمائندے "قاضی علی عسگر" نے جمعرات کے روز ایران کے دورے پر ایک چینی وفد کے ساتھ ملاقات میں انحرافی افکار کا مقابلہ کرنے کے سلسلے میں چین کے ساتھ اسلامی جمہوریہ ایران کے بھرپور تعاون کی یقین دہانی کرائی۔ چین کے مذہبی امور کے قومی ادارے کے سربراہ "کوانگ شنگ" کے ساتھ ہونے والی نشست میں انھوں نے کہا کہ افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ آج تکفیری گروہ اللہ اکبر کا نعرے لگا کر شام اور عراق میں لوگوں پر ستم ڈھا رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ لوگ مسلمان نہیں ہے بلکہ ایسے فریب خوردہ افراد ہیں جو ملکوں کے قومی اتحاد کو پارہ پارہ کرکے رکھ دیں گے لہذا اس قسم کے منحرف گروہوں کو مسلمانوں کے اندر اثرونفوذ پیدا کرنے کی اجازت نہیں دی جانی چاہئے۔ ایرانی حج مشن کے سربراہ کا کہنا تھا کہ حج کے امور کے سلسلے میں ہم چینی مسلمانوں کے ساتھ پورا تعاون کرنے کے لئے تیار ہیں۔ انکا کہنا تھا کہ سعودی عرب نے اس سال ایرانی عازمین حج کو مناسک حج کی ادائیگی سے روک دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایرانی حجاج کی راہ میں رکاوٹیں ڈالنے کے بعد ہزاروں ایرانی شہریوں کے قتل میں ملوث دہشت گرد گروہ "ایم، کے، او" المعروف گروہ منافقین کی سرغنہ کو فریضہ حج کی ادائیگی کی دعوت دی گئی ہے۔ چین کے مذہبی امور کے قومی ادارے کے سربراہ "کوانگ شنگ" نے بھی اس موقع پر اپنے خطاب میں کہا کہ ایران اور چین، انتہا پسندی کے خلاف جنگ میں ایک جیسی صورت حال سے دوچار ہیں، بنابریں دونوں ملکوں کو چاہئے کہ اس سلسلے میں بھرپور تعاون کریں اور ایک دوسرے کے تجربات سے فائدہ اٹھائیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۲۴۲